بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || حوزہ علمیہ قم کے اعلی سطحی اور درس خارج کے 1200 اساتذہ نے اپنے مشترکہ بیان میں، اعلان کیا کہ امریکی افواج اور مفادات کے خلاف جہاد واجب ہے اور ٹرمپ اور نیتن یاہو کا خون مباح ہے۔
بیان کا متن حسب ذیل ہے:
بِسْمِ اللهِ القَاصِمِ الجَبَّارِینَ
إِنَّا مِنَ المُجْرِمِینَ مُنْتَقِمُونَ
حق و باطل کے محاذوں کی شناخت آج کسی بھی دور سے زیادہ، واضح ہو چکی ہے، عالم انسانیت کے نجات دہندہ کے ظہور پر نور کے مقدمات و تمہیدات عیاں ہو چکی ہیں، اور باطل کا محاذ اور شیطانی امریکی-صہیونی محاذ نے اپنے زوال کو پہلے سے کہیں زیادہ واضح و نمایاں دیکھ لیا ہے، اور وہ کسی بھی سابقہ دور سے زیادہ گستاخ اور شقی ہو چکے ہیں۔
چنانچہ امریکہ کے جرائم پیشہ صدر ٹرمپ اور صہیونی ریاست کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایک اسلامی ملک پر حملہ اور دنیا کے حریت فکر رکھنے والے انسانوں کے امام و مقتدیٰ، انقلاب اسلامی کے رہبر معظم، ہمارے شہید رہبر حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام سید علی خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ) کی رہائشگاہ پر بمباری کرکے انہیں اہل خانہ کے ہمراہ شہید کر دیا ہے۔
مرجع عالی قدر حضرت آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی (دام ظلہ) کے فتوائے مبارکہ کے مطابق، اس عظیم اور عدیم المثال تاریخی جرم کا حکم دینے والے افراد ـ یعنی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور صہیونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو ـ مہدور الدم ہيں (اور ان کا خون مباح ہے) اور حالیہ جرم میں شریک تمام افراد اور مسلمان ملک ایران کے خلاف جارحیت میں ملوث افواج اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کا عمل "حربی کافر" کا مصداق ہیں۔
ہر مسلمان پر شرعی واجب ہے کہ ـ کفر پر اسلام کی حتمی فتح، اسرائیل کی نابودی اور خطے سے امریکیوں کے مکمل انخلاء تک ـ جہاں بھی ممکن ہو مذکورہ افراد کو ہلاک کردیں، ان پر حملہ کریں اور اپنی طاقت کی حد تک ان کے وسائل کو تباہ کر دیں۔
ہم نے کسی بھی پڑوسی کے خلاف جارحیت کا ارتکاب نہیں کیا ہے اور صرف امریکی اڈوں پر حملے کر رہے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی یکجہتی مجلس خبرگان کی طرف سے انقلاب اسلامی کے نئے رہبر کے اعلان تک، محفوظ رہے گی۔
وَالسَّلَامُ عَلَی عِبَادِ اللہ الصَّالِحِینَ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ